مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کے بجلی کے شعبے میں نمایاں توسیع ریکارڈ کی گئی جس کے بعد ملک میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت بڑھ کر 46 ہزار 275 اعشاریہ 36 میگاواٹ تک پہنچ گئی جبکہ اس اضافے میں قابلِ تجدید توانائی نے سب سے اہم کردار ادا کیا۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب وزارتِ توانائی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 میں ملک کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 44 ہزار 454 اعشاریہ 7 میگاواٹ تھی جو جون 2026 تک بڑھ کر 46 ہزار 275 اعشاریہ 36 میگاواٹ ہو گئی۔ اس عرصے میں مجموعی طور پر ایک ہزار 820 اعشاریہ 66 میگاواٹ کا اضافہ ہوا۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق سال کے دوران شامل ہونے والی نئی صلاحیت کا زیادہ تر حصہ صاف توانائی کے منصوبوں سے حاصل ہوا، جو ملک میں ماحول دوست اور متنوع توانائی نظام کی جانب بتدریج پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔ مجموعی اضافے میں ایک ہزار 663 اعشاریہ 44 میگاواٹ گھروں اور اداروں میں شمسی توانائی کے استعمال کے بدلے بجلی کے تبادلے کے نظام سے جبکہ 157 اعشاریہ 22 میگاواٹ آبی بجلی کے منصوبوں سے حاصل ہوئی۔اعداد و شمار کے مطابق شمسی توانائی کے اس نظام میں نمایاں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صارفین کا قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔
اس نظام کے تحت نصب شدہ صلاحیت مالی سال کے آغاز پر 5 ہزار 492 اعشاریہ 7 میگاواٹ سے بڑھ کر جون 2026 میں 7 ہزار 156 اعشاریہ 14 میگاواٹ تک پہنچ گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین بجلی کے بڑھتے اخراجات سے بچنے کے لیے چھتوں پر شمسی توانائی کے نظام تیزی سے اپنا رہے ہیں۔آبی بجلی کی صلاحیت میں بھی معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 11 ہزار 707 میگاواٹ سے بڑھ کر 11 ہزار 864 اعشاریہ 22 میگاواٹ ہو گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق کم پیداواری لاگت اور قابلِ تجدید ہونے کی وجہ سے پن بجلی پاکستان کی طویل المدتی توانائی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔دوسری جانب روایتی ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی مجموعی صلاحیت 7 ہزار 920 میگاواٹ پر برقرار رہی جس میں 3 ہزار 300 میگاواٹ مقامی کوئلے اور 4 ہزار 620 میگاواٹ درآمدی کوئلے پر مبنی منصوبوں سے حاصل ہوتی ہے۔اسی طرح گیس سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 3 ہزار 422 میگاواٹ اور درآمدی قدرتی گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کی صلاحیت 6 ہزار 973 میگاواٹ پر مستحکم رہی۔تیل سے چلنے والے بجلی گھروں کی صلاحیت 2 ہزار 515 میگاواٹ، گنے کی پھوک سے چلنے والے بجلی گھروں کی صلاحیت 400 میگاواٹ اور جوہری بجلی گھروں کی صلاحیت 3 ہزار 530 میگاواٹ پر برقرار رہی۔
ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی ایک ہزار 845 میگاواٹ جبکہ بڑے شمسی توانائی منصوبوں کی صلاحیت 650 میگاواٹ رہی۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے روایتی بجلی گھروں کی توسیع کی رفتار سست پڑ چکی ہے جبکہ قابلِ تجدید توانائی کے چھوٹے نظام پاکستان کے بجلی کے شعبے میں تیزی سے اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق شمسی توانائی کے استعمال کے بدلے بجلی کے تبادلے کے نظام میں تیز رفتار اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شمسی ٹیکنالوجی نسبتا کم خرچ ہو چکی ہے اور عوام توانائی کے معاملے میں زیادہ خودمختاری چاہتے ہیں۔قابلِ تجدید توانائی کا بڑھتا ہوا حصہ درآمدی ایندھن پر خرچ کم کرنے، توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تازہ اضافہ حکومت کی صاف توانائی کے فروغ اور درآمدی حیاتیاتی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی کوششوں سے ہم آہنگ ہے۔46 ہزار میگاواٹ سے زائد مجموعی نصب شدہ صلاحیت کے ساتھ پاکستان کا بجلی کا شعبہ نئے مالی سال میں قابلِ تجدید توانائی کے کہیں زیادہ مضبوط کردار کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک