i آئی این پی ویلتھ پی کے

خصوصی ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے لیے آئندہ مالی سال 95 کروڑ 24 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز،ویلتھ پاکستانتازترین

July 02, 2026

حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے درمیانی مدت کے بجٹ خاکے کے تحت خصوصی ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے لیے 95 کروڑ 24 لاکھ 81 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ یہ رقم مالی سال 2028-29 تک بڑھ کر ایک ارب 17 کروڑ 60 لاکھ روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب ایک سرکاری دستاویز کے مطابق بجٹ خاکے میں ٹیکنالوجی زونز سے متعلق قواعد و ضوابط کو مزید مثر بنانے، کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے اور ملک بھر میں خصوصی ٹیکنالوجی زونز کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی حکمت عملی پیش کی گئی ہے۔دستاویز کے مطابق اتھارٹی کے لیے مختص رقم مالی سال 2026-27 میں 95 کروڑ 24 لاکھ 81 ہزار روپے سے بڑھ کر 2027-28 میں ایک ارب 6 کروڑ روپے اور 2028-29 میں ایک ارب 17 کروڑ 60 لاکھ روپے تک پہنچ جائے گی۔مجوزہ اخراجات میں سب سے بڑا حصہ ایسے ڈیجیٹل نظام کی تیاری کے لیے رکھا گیا ہے جو مختلف سرکاری اداروں سے منسلک ہوگا اور ٹیکنالوجی زونز میں قائم اداروں کی اجازت ناموں اور انتظامی امور کو ایک ہی نظام کے تحت چلائے گا۔ اس منصوبے کے لیے مختص رقم مالی سال 2025-26 کے 40 کروڑ 84 لاکھ روپے سے بڑھ کر 2028-29 میں 52 کروڑ 11 لاکھ روپے ہونے کا امکان ہے۔اسلام آباد ٹیکنوپولس، جو اتھارٹی کا نمایاں منصوبہ ہے، کی تکمیل اور فعال بنانے کے لیے مختص فنڈز بھی 2025-26 کے 13 کروڑ 83 لاکھ روپے سے بڑھ کر 2028-29 میں 17 کروڑ 64 لاکھ روپے تک پہنچ جائیں گے۔

قانونی تقاضوں اور اجازت ناموں کے نظام کو مزید مثر بنانے کے لیے اخراجات 6 کروڑ 84 لاکھ روپے سے بڑھ کر 8 کروڑ 73 لاکھ روپے تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ ٹیکنالوجی زونز میں اداروں کو باضابطہ منظوری اور اجازت نامے جاری کرنے کے لیے مختص رقم 7 کروڑ 61 لاکھ روپے سے بڑھ کر 9 کروڑ 71 لاکھ روپے ہو جائے گی۔سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے مالی اور مالیاتی مراعات پر خرچ کی جانے والی رقم بھی 8 کروڑ 38 لاکھ روپے سے بڑھ کر 10 کروڑ 70 لاکھ روپے تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ پاکستان کے خصوصی ٹیکنالوجی زونز کی ملکی اور عالمی سطح پر تشہیر کے لیے 18 کروڑ 68 لاکھ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے جو موجودہ 14 کروڑ 64 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔خصوصی ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی 2021 کے قانون کے تحت قائم ایک خودمختار قانونی ادارہ ہے جس کا مقصد پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے کو ادارہ جاتی اور ضابطہ جاتی معاونت فراہم کرنا ہے۔ اتھارٹی عالمی معیار کے، برآمدات پر مبنی ٹیکنالوجی نظام کی تشکیل کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور جامعات، تحقیقی اداروں اور صنعت کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

اتھارٹی کی ترجیحات میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ، افرادی صلاحیت میں اضافہ، جدت، کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی، تحقیق و ترقی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، ٹیکنالوجی کی برآمدات بڑھانا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا شامل ہے۔ان مقاصد کے حصول کے لیے ملک بھر میں خصوصی ٹیکنالوجی زونز قائم کیے جائیں گے جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی پارکس، نئے کاروبار کے فروغ کے مراکز، تحقیق و ترقی کے مراکز، ٹیکنالوجی پیداوار کے مراکز، جامعات اور فنی تربیت کے ادارے قائم کیے جائیں گے۔دستاویز کے مطابق مجوزہ مالی اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت مستقبل کی معاشی ترقی میں ٹیکنالوجی اور جدت کو بنیادی محرک بنانے، زیادہ مالیت کی سرمایہ کاری راغب کرنے، ہنرمند روزگار کے مواقع بڑھانے اور ٹیکنالوجی کی برآمدات میں اضافے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک