حکومتِ پنجاب نے صنعتی شعبے، خصوصا برآمدات سے وابستہ صنعتوں کو مالی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے صنعتی ترقی اور برآمدی فروغ مالی معاونت اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اسکیم پنجاب کے جدت، قدر، مواقع اور تبدیلی پروگرام کے تحت شروع کی جا رہی ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق پنجاب میں نجی شعبے کو طویل المدتی مالی وسائل تک محدود رسائی صنعتی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے جبکہ نجی شعبے کو فراہم کیے جانے والے قرضوں کا حجم صوبے کی مجموعی قومی پیداوار کا صرف 7.3 فیصد ہے۔اس اسکیم کے تحت حکومت 193 ارب روپے کی شرحِ منافع میں رعایت فراہم کرے گی اور مالی معاونت کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلے درجے میں برآمدات سے وابستہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی اداروں کو بلا منافع مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور ہر درخواست گزار کو 10 کروڑ روپے تک فراہم کیے جائیں گے۔ اس مرحلے میں 267 منصوبوں کو پانچ سال کے لیے مالی سہولت دی جائے گی۔دوسرے درجے میں قدر میں اضافہ کرنے والی صنعتوں کو 3 فیصد شرحِ منافع پر مالی معاونت دی جائے گی۔ اس کے لیے 110 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ہر منصوبے کو 100 کروڑ روپے تک فراہم کیے جا سکیں گے۔
اس مرحلے میں 147 منصوبوں کو 10 سال کے لیے مالی سہولت ملے گی جس میں ابتدائی دو سال ادائیگی سے استثنا شامل ہوگا۔تیسرے درجے میں اہم صنعتی منصوبوں کو 5 فیصد شرحِ منافع پر مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے 170 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور ہر منصوبے کو 100 کروڑ سے 500 کروڑ روپے تک دیے جائیں گے۔ قرضوں کی مدت 10 سال ہوگی جس میں ابتدائی دو سال ادائیگی سے استثنا شامل ہوگا۔تیسرے درجے کے لیے مختص 170 ارب روپے میں سے 150 ارب روپے پنجاب بینک فراہم کرے گا جبکہ باقی رقم دیگر بینکوں کی جانب سے دی جائے گی۔دریں اثنا حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کے اہم صنعتی علاقوں کی ترقی اور جدید سہولتوں کی فراہمی کے لیے تین سالہ منصوبہ بھی تیار کیا ہے جس کا مقصد صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ، برآمدات بڑھانا اور قومی معیشت میں صنعتوں کے کردار کو مضبوط بنانا ہے۔سرکاری دستاویز کے مطابق علامہ اقبال صنعتی شہر فیصل آباد، وہاڑی خصوصی اقتصادی علاقہ، رحیم یار خان خصوصی اقتصادی علاقہ، بہاولپور صنعتی علاقہ اور موٹروے ایم فور کے قریب فیصل آباد صنعتی علاقے میں بنیادی ڈھانچے اور دیگر سہولتوں کو بہتر بنایا جائے گا۔ فیصل آباد صنعتی علاقہ دو ہزار ایکڑ پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے صنعتی علاقوں میں اوسطا صرف 58 فیصد جگہ استعمال ہو رہی ہے کیونکہ پیداواری سرمایہ کاری کے لیے ضروری سہولتیں ہر جگہ یکساں طور پر دستیاب نہیں۔نئی صنعتی اکائیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت صنعتی ترقی کے معاون مراکز بھی قائم کر رہی ہے۔دستاویز کے مطابق ابتدائی سرمایہ اور توانائی کی بلند لاگت نئی صنعتوں کے قیام میں بڑی رکاوٹ ہے جسے کم کرنے کے لیے 50، 50 ارب روپے مالیت کے دو منصوبے شروع کیے جائیں گے۔مزید برآں 100 ارب روپے کی لاگت سے درآمد شدہ کارخانہ جاتی مشینری اور آلات پر ادا کیے گئے محصولات کی واپسی کی سہولت فراہم کی جائے گی جس کے تحت مخصوص صنعتی علاقوں اور زرعی پیداوار کی صنعتی تیاری کے مراکز میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو محصولات واپس کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ صنعتی مقامات پر شمسی توانائی کے نظام کی تنصیب کے لیے بھی رعایت دی جائے گی۔اس سہولت سے بہاولپور صنعتی علاقہ، فیصل آباد صنعتی علاقہ اور سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں قائم زرعی پیداوار کی صنعتی تیاری کے مراکز مستفید ہو سکیں گے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک