خلیجی خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ۔ امریکی میڈیا رپورٹس اور متحدہ عرب امارات کے ایک اعلی عہدیدار کے مطابق اگلے 24 گھنٹے انتہائی اہم ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر کسی بھی وقت حملہ متوقع ہے۔متحدہ عرب امارات کے ایک عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ حالیہ واقعات نے صورتحال کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں اب ایک مربوط فوجی جواب پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ عرب امارات کے علاقے فجیرہ میں ایک تیل کی تنصیب پر ڈرون حملہ ہوا اور دبئی کی فضائوں میں میزائلوں کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔سمندری حدود میں بھی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی بحری جہازوں اور تجارتی جہازوں پر کروز میزائلوں اور ڈرون حملوں کے جواب میں امریکی فوج نے ایران کی چھ کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے۔
اسی حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ امریکا نے ایرانی فورسز کی سات کشتیاں تباہ کی ہیں جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہی تھیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحری راستہ بند رہا تو امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں پانچ ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہیں۔دوسری جانب یہ تنازع صرف خلیج تک محدود نہیں رہا بلکہ لبنان میں بھی اسرائیلی فوج نے جنوبی علاقوں کے دس دیہاتوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جس سے ایک وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔تقریبا ایک ماہ کی خاموشی کے بعد دوبارہ شروع ہونے والی اس کشیدگی نے سفارتی کوششوں کو بھی دھچکا پہنچایا ہے۔دوسری جانب ایک اور امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعوی کیا ہے کہ ممکنہ طور پر آئندہ چند دنوں میں امریکا ایران کیخلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے،امریکی فوج جنگی کارروائیوں کے لیے تیار ہے،ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تصفیہ کی کوشش کرتے ہوئے تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی