i بین اقوامی

ثالث ممالک ایران کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں،ایران دھمکیاں بند کردے تو کل ہی آبنائے ہرمز کھل جائے گا،مارکو روبیوتازترین

March 27, 2026

امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ثالث ممالک ایران کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، اگر ایران دھمکیاں بند کر دے تو آبنائے ہرمز کو کل ہی دوبارہ کھولا جا سکتا ہے ،انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں خلل ڈالنا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ جو ممالک عالمی قوانین کی پاسداری کے دعوے دار ہیں، انہیں اس صورتحال میں عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔مارکو روبیو کے مطابق آبنائے ہرمز سے امریکا کی توانائی کی ضروریات کا بہت کم حصہ وابستہ ہے، جبکہ دنیا کے دیگر کئی ممالک کے اس اہم سمندری راستے میں بڑے مفادات ہیں۔ آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، اگرچہ یہ مقدار اب بھی معمول سے کم ہے۔مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز فوری طور پر کھل سکتی ہے اگر ایران عالمی بحری جہاز رانی کو دھمکانا بند کر دے، جو ممالک بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے دعویدار ہیں، انہیں اس صورتحال پر عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

انہوں نے جی 7 ممالک کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشکش امریکا کے لیے کسی مدد کے مترادف نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ماضی میں مختلف جنگوں کے دوران کئی بار دیگر ممالک کی مدد کی، لیکن جب خود امریکا کو ضرورت پڑی تو نیٹو کی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔مارکو روبیو نے یورپی موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ کہا گیا کہ ایران سے متعلق جنگ یورپ کی جنگ نہیں ہے۔انہوں نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران یورپ کی جنگ نہیں تو ٹھیک ہے، یوکرین بھی ہماری جنگ نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کی جنگ اگرچہ امریکا کی جنگ نہیں، اس کے باوجود امریکا نے اس میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا اور سب سے زیادہ حصہ ڈالا ہے۔ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مختلف ثالث ممالک ایران کے ساتھ پیغامات کے تبادلے میں مصروف ہیں اور اس سلسلے میں کچھ پیشرفت بھی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیغامات کے تبادلے کا عمل جاری اور مسلسل بدلتی صورتحال کا حصہ ہے، اس حوالے سے میڈیا میں تفصیلات بیان نہیں کی جا سکتیں، یہ ایک حساس معاملہ ہے جس پر کھلے عام بات چیت نہیں کی جا سکتی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی