سینئر ایگزیکٹو کمیٹی ممبر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری علی عمران آصف نے کہا ہے کہ حکومت برآمدی صنعتوں کو طویل مدتی رعایتی فنانسنگ فراہم کرے تاکہ پیداواری صلاحیت میں توسیع ہوسکے ،وزیر اعظم کی جانب سے حالیہ اعلانات حوصلہ افزاء ہیں لیکن ان پر عملدرآمد انتہائی پیچیدہ ہے اور اس میں بہت سی چیزیں وضاحت طلب ہیں۔ اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم کے حالیہ اعلانات بہر حال برآمد ی صنعتوںکی حمایت میں ایک قدم ضرور ہیں جو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کررہی ہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ یہ تجربہ کتنا کامیاب رہتا ہے اور اس سے برآمدات میں کتنا اضافہ ہوتا ہے ۔
انہوںنے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو برآمدات میں کارکردگی دکھانے والے ہمسایہ ممالک کی پالیسیوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے اور اس کے مطابق مینو فیکچررز اور برآمدکنندگان کو مراعات اور سہولیات دی جائیں۔ پاکستان کے روایتی حریف ملک پر پہلے امریکہ کی جانب سے جو ٹیرف عائد کیا گیا تھا اب وہ پاکستان کے مقابلے میں کم ہو گیا ہے جو تشویش کا باعث ہے ،امریکہ سے قریبی تعلقات کی وجہ سے پاکستان کو بات چیت کا آغاز کر کے مزید ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکہ سے تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں ہے جسے مزید بڑھانے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی