وزیرمملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت پائیدار معاشی استحکام اور برآمدات پر مبنی ترقی کے لیے پبلک پرائیویٹ شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔وزیراعظم کی ہدایت پر ملک بھر میں اسٹیک ہولڈرز سے بجٹ پر مشاورت کا عمل جاری ہے اور وفاقی بجٹ 2026-27 کے لیے جامع، مشاورتی اور ترقی پر مبنی اقتصادی پالیسی سازی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پاکستان اپیرل فورم، آل پاکستان ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین جاوید بلوانی سے گفتگوکے دوران کیا جنہوں نے یہاں ان سے ملاقات کی ۔اس موقع پر ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمدکنندگان نے مختلف نوعیت کی منظوریوں اور بین الصوبائی ریگولیٹری اختلافات سے چھٹکارے کے لیے ملک کے برآمدی شعبے کو خالصتا وفاق کے دائرہ کار میں لانے، برآمدی شعبے کی مالی مشکلات پر قابو کی غرض سے ایف ٹی آر کی بحالی، ایکسپورٹس پر سپر ٹیکس ختم کرنے اور 2021 کی ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم من وعن بحال کرنے کا مطالبہ کیا ۔ جاوید بلوانی نے کہا کہ برآمدی شعبے کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ پاکستان کی برآمدات پر مبنی معاشی ترقی ممکن ہوسکے۔ برآمدات پر مبنی ترقی کیلئے معیشت کو درکارایک مضبوط اور مربوط قومی حکمتِ عملی وفاق حکومت کے زیر انتظام ضروری ہے جس پر مرکزی سطح پر عمل درآمد کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں برآمد و درآمدی پالیسیوں کا یکساں نفاذ ضروری ہے تاکہ صوبائی سطح پر مختلف تشریحات اور ریگولیٹری اختیارات کے ٹکرا، برآمدی سرگرمیوں میں خلل پیدا ہونے سے بچاو ہوسکے۔ انہوں نے وزیرمملکت کو بتایا کہ دوطرفہ اور کثیرالجہتی تجارتی معاہدے چونکہ وفاقی حکومت کرتی ہے، اس لیے مرکزی کنٹرول پاکستان کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں مرثر انداز میں پوری کرنے کے قابل بناسکتا ہے۔ کاروبار میں آسانی اور عالمی مسابقت کیلیے ایک وفاقی سطح پر صرف واحد ون ونڈو وفاقی اتھارٹی طریقہ کار کی پیچیدگی، مختلف منظوریوں اور بین الصوبائی ریگولیٹری اختلافات کو کم کرسکے گی، جس سے برآمدات میں سہولت اور تیزی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ تجارت، صنعت اور برآمدات کے علاوہ بحری، فضائی اور زمینی تجارت پہلے ہی وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہیں۔ جاوید بلوانی نے بتایا کہ قومی ٹیکسٹائل ویلیو چین کی نمائندگی کرنے والی تمام ویلیو ایڈڈ اپیرل و ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز و دیگر بڑی ایکسپورٹ ایسوسی ایشنز کی مشاورت سے نئے وفاقی بجٹ کے لیے تجاویز مرتب کی گئی ہیں، جن کا محور پاکستان کی برآمدات پر مبنی معاشی ترقی ہے۔
ان تجاویز میں ٹیکس میں رعایت اور پالیسی سہولیات شامل ہیں تاکہ برآمدات میں اضافہ، زرمبادلہ کا حصول، صنعت کاری کا فروغ اور شہری روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکیں۔انہوں نے تجویز دی کہ تمام برآمدی شعبوں کے لیے فکسڈ ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر ) بحال کی جائے تاکہ کیش فلو اور لیکویڈٹی مسائل حل ہوں، کیونکہ نارمل ٹیکس ریجیم برآمدات کے لیے معاشی دبا اور مسائل کا باعث بن رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈڈ اپیرل و ٹیکسٹائل سیکٹر، جو اس وقت قومی برآمدات کا 56 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے، اضافی ٹیکسوں، غیر معمولی بلند پیداواری لاگت اور عالمی مسابقت کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے، ایف ٹی آر سے این ٹی آر پر منتقلی سے صنعتکار ودیگر غیر برآمدی منافع بخش کاروباروں کی جانب رخ کرسکتے ہیں، جس سے برآمدات میں کمی، بے روزگاری میں اضافہ اور زرمبادلہ گھنٹے کے خطرات ہیں۔انھوں نے انکشاف کیا کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ بزنس میں نئے بزنس مین نہیں آرہے ہیں یہی وجہ ہے کہ برآمدی ایسوسی ایشنز کی اراکین کی تعداد میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ این ٹی آر کے تحت برآمدکنندگان پر 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس اور افراد/ایسوسی ایشنز پر 45 فیصد تک ٹیکس عائد ہوتا ہے، جبکہ اضافی سرچارج اور سپر ٹیکس کے باعث مجموعی ٹیکسوں کا بوجھ غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے، جس سے برآمدکنندگان پر تہرا ٹیکس عائد ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ تبدیلیوں نے لوکل سپلائز پر زیرو ریٹنگ کے خاتمے، درآمدی خام مال پر ڈیوٹیوں و ٹیکسز عائد کرنے کے نتیجے میں برآمدکنندگان کو ریفنڈز کے پیچیدہ عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے جبکہ اربوں روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کلیمز پہلے ہی حکومت کے پاس زیر التوا اور تاخیر کا شکار ہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ ڈیوٹی ڈرا بیک آف ٹیکسز اینڈ لیویز (DLTL) اسکیم کو دوبارہ متعارف کروایا جائے، جس کے تحت ویلیو ایڈڈ برآمدات پر 5فیصد بنیادی رعایت اور کارکردگی کی بنیاد پر اضافی 2 فیصد مراعات دی جائیں تاکہ برآمدات میں اضافہ ہوسکے۔وزیر مملکت برائے خزانہ کو تجویز دی گئی کہ کاروباری لاگت کم کرنے کے لیے سوشل سیکیورٹی اداروں میں دی جانے والی صنعتوں کی شراکت کو عارضی طور پر معطل کیا جائے اور جب تک موجودہ فنڈز شفاف انداز میں مزدوروں کی فلاح پر خرچ نہ ہوں۔ بنگلہ دیش ماڈل کی طرز پر 0.03 فیصد ایکسپورٹ ٹرن اوور کی بنیاد پر سادہ اور شفاف نظام اپنایا جائے۔اجلاس میں پیداواری لاگت میں کمی کے لیے علاقائی مسابقتی توانائی ٹیرف کی بحالی، یوٹیلیٹی نرخوں کو منجمد کرنے اور 100 فیصد برآمدی صنعتوں کے لیے یوٹیلیٹیز پر ٹیکس ختم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی