نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) اور نیشنل گرڈ کمپنی (این ٹی ڈی سی) پر مجموعی طور پر 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا ۔ میڈیارپورٹ کے مطابق یہ کارروائی جنوری 2024 میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور سسٹم کی کوتاہیوں کے باعث کی گئی ہے۔نیپرا کے اعلامیے کے مطابق جنوری 2024 کے لیے فیول لاگت کا ہدف 7 روپے 49 پیسے فی یونٹ مقرر تھا۔تاہم اصل لاگت 14 روپے 60 پیسے فی یونٹ تک جا پہنچی۔ سی پی پی اے نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 7 روپے 13 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی، جس پر اتھارٹی نے تحقیقات کا حکم دیا تھا۔تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ سستی بجلی پیدا کرنے والے ذرائع موجود ہونے کے باوجود فرنس آئل اور ڈیزل سے مہنگی بجلی بنائی گئی۔
نیپرا کے مطابق ایل این جی اور نیوکلیئر پاور پلانٹس سے سستی پیداوار کم کی گئی، جبکہ ڈیزل اور فرنس آئل کا استعمال کر کے 31 ارب 23 کروڑ روپے کی انتہائی مہنگی بجلی پیدا کی گئی۔نیپرا نے سی پی پی اے کو اتھارٹی کو مطمئن کرنے میں ناکامی پر ایک کروڑ روپے جرمانہ کیا، جبکہ نیشنل گرڈ کمپنی پر 5 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔نیشنل گرڈ کمپنی پر جرمانہ ترسیلی نظام میں بہتری لانے میں ناکامی پر کیا گیا، جس کی وجہ سے مقامی کوئلے سے پیدا ہونے والی سستی بجلی شمالی علاقوں تک نہیں پہنچائی جا سکی۔نیپرا نے اپنے فیصلے میں سی پی پی اے اور نیشنل گرڈ کمپنی کو حکم دیا ہے کہ جرمانے کی رقم 15 روز کے اندر جمع کرائی جائے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی