نواب شاہ میں بی سیکشن پولیس تھانے کے لاک اپ میں زیرِ حراست ملزم ارشد بھٹی کی پراسرار ہلاکت کے بعد صورتحال پیچیدہ ہوگئی ۔ذرائع کے مطابق مقتول کے ورثا نے پولیس کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ارشد بھٹی کو دورانِ حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔ورثا کا کہنا ہے کہ متوفی ارشد بھٹی کا تعلق شہدادپور سے تھا اور وہ پیشے کے لحاظ سے موبائل ٹیکنیشن تھا۔ واقعے کے بعد اہلخانہ اور مقامی شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف تین روز قبل چوری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد اسے گزشتہ رات حراست میں لیا گیا تھا۔پولیس کا موقف ہے کہ زیرحراست ملزم نے تھانے کے باتھ روم میں پھندا لگا کر مبینہ طور پر خودکشی کی۔پولیس نے بتایا کہ واقعے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے پیپلز میڈیکل یونیورسٹی منتقل کر دیا گیا ہے۔واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو معاملے کی مکمل تحقیقات کرے گی۔واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور شہریوں نے بھی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی