i پاکستان

پاکستان میں جنسی زیادتی سے متاثرہ افراد کو قانونی اصلاحات کے باوجود انصاف تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامناتازترین

April 01, 2026

پاکستان میں جنسی تشدد سے متعلق قوانین کو وسعت دینے، سزائوں میں اضافے اور طریقہ کار میں بہتریکیلئیاصلاحات تاحال متاثرہ افراد کے لئے موثر انصاف اور تحفظ میں خاطر خواہ بہتری نہیں لا سکیں۔ یہ انکشاف عالمی غیر سرکاری تنظیم، ایکوایلیٹی نائو کی حالیہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ پاکستان میں جنسی تشدد کے خلاف قانونی رد عمل نفاذ اور انصاف تک رسائی میں در پیش چیلنجز کے عنوان سے جاری رپورٹ کے مطابق قوانین کا ناقص نفاذ، تحقیقات اور مقدمات میں طویل تاخیر اور عدالت سے باہر ہونے والے غیر قانونی " سمجھوتے ایسے عوامل ہیں جوپا کستان میں ریپ کے مقدمات میں انتہائی کم ، یعنی صرف 0.5 فی صد سزا کی شرح کا باعث بن رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقدمات کو ناقص شواہد جمع کرنے کے طریقہ کار اور سرکاری وکلا استغاثہ کی کمی مزید کمزور کرتی ہے۔ متاثرین کو مورد الزام ٹھہرانا ایک عام رجحان ہے، جبکہ پولیس پراسیکیوٹرز اور عدالتیں اکثر ریپ اور رضامندی کی فرسودہ اور محدود تشریحات استعمال کرتی ہیں۔ مزید براں، متاثرہ افراد کو قانونی امداد نفسیاتی و سماجی معاونت محفوظ پناہ گاہوں اور گواہوں کو موثر تحفظ تک رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق محروم و پسماندہ طبقات ، خصوصا مسیحی اور ہندو برادریوں سے سے تعلق رکھنے والی خواتین اور لڑکیاں جنسی براسانی، اغوا اور جبری مذہب تبدیلی بشمول کم عمری کی شادی کے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں۔ اسی طرح معذوری کا شکار خواتین کو جنسی تشدد کا سامنا عام خواتین کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ایکوایلیٹی نائو گلوبل لیڈ جیکوی بنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے جنسی تشدد سے متعلق قوانین کو مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت کی ہے، تاہم اب ان کے مثر نفاذ کویقینی بنایا ضروری ہے ۔ بہتر وسائل تربیت اور احتساب کے ذریعے قوانین کے مستقل نفاذ کو ترجیح دی جانی چاہیے ہمیں ایسی تمام قانونی خامیوں کو دور کرنا ہوگا جو خواتین اور لڑکیوں کو غیر محفوظ بنائی ہیں، اور ساتھ ہی ریاستی معاون خدمات کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ تمام متاثرہ افراد کو وہ انصاف مل سکے جس کے وہ مستحق ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پا کستانی قانون میں ریب عصمت دری کی تعریف رضامندی کی عدم موجودگی پر مبنی ہے، یعنی جنسی عمل کے لیے آزاد اور رضا کارانہ رضامندی ضروری ہے۔ جسمانی تشدد کے شواہد لازمی نہیں، اور صرف متاثرہ فرد کی گواہی بھی سزا کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔

اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے اکثر جسمانی چوٹ یا مزاحمت کے شواہد پر انحصار کرتے ہیں، اور جسمانی تشدد کے بغیر ریپ کے واقعات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بعض عدالتیں غیر ضروری اضافی شواہد کا تقاضا کرتی ہیں، جبکہ دفاعی وکلا، جرح کے دوران متاثرہ افرادکی ساکھ کو متاثر کرنے کے لیے ان کی ذاتی زندگی سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنسی تشدد کے مقدمات کی تحقیقات کمزور بنیادوں پہ کی جاتی ہیں۔ جبکہ وسائل کی کمی بھی شواہد جمع کرنے ، محفوظ رکھنے اور ان کے تجزیے کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔ پولیس عموما طبی تصدیق، جیسے ڈی این اے، پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے اور دیگر اہم فرانزک اور غیر فرانزک شواہد کو نظر انداز کر دیتی ہے۔پاکستان کے نظام انصاف کو مضبوط بنانے کے لیے شواہد اکٹھا کرنے کے عمل میں بہتری، سرمایہ کاری اور مختلف اداروں کے درمیان موثر ہم آہنگی ضروری ہے۔ قوانین کے درست اطلاق کو یقینی بنانے کے لیے نظام انصاف سے وابستہ تمام افراد کے لیے لازمی تربیت اور واضح رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے۔ عدالتوں کی بہتر نگرانی بھی ناگزیر ہے تاکہ غیر مناسب شواہد کے تقاضوں ریپ سے متعلق غلط تصورات اور ممنوعہ سوالات کا سدباب کیا جا سکے۔

فوری انصاف فراہم کرنے والی فاست تریک ( عدالتیں بروقت انصاف کی امید تو پیدا کرتی ہیں، تاہم ریپ کے مقدمات میں اب بھی تاخیر اور عملی مسائل برقرار ہیں۔اور تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنفی بنیاد پر تشدد کی عدالتوں میں جانے والے متاثرین عام فوجداری عدالتوں کے مقابلے میں زیادہ اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ تاہم ریپ کے مقدمات میں اب بھی معمول کے مطابق طویل تاخیر، طریقہ کار سے متعلق مسائل اور پولیس استغاثہ اور ویمن میڈیکو لیگل آفیسرز (ڈبلیو ایم ایل او) کے درمیان کمزور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ بروقت طبی معائنہ شواہد اکٹھا کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ پاکستان کے قانون کے مطابق ریپ کے مقدمات میں متاثرہ فرد اور ملزم دونوں سے میڈیکو لیگل معائنے کے دوران ڈی این اے نمونے حاصل کرنا لازم ہے۔ خواتین کے معاملے میں یہ معائنہ ویمن میڈیکو لیگل آفیسر (ڈبلیو ایم ایل او) کے ذریعے کیا جانا ضروری ہوتا ہے، مگر ان کی کمی کے باعث متاثرین کو اکثر معائنے کے لیے دور دراز سفر کرنا پڑتا ہے، اور انہیں شواہد محفوظ رکھنے کے طریقہ کار سے بھی مکمل طور پر آگاہی نہیں ہوتی۔ویمن میڈیکو لیگل آفیسرز (ڈبلیو ایم ایل اوز)خود بھی کئی چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں۔

ان کے پاس اکثر وہ وسائل موجود نہیں ہوتے جن کی مدد سے وہ مثر طریقے سے اپنا کام انجام دے سکیں، اور نہ ہی انہیں بدلتے ہوئے قانونی تقاضوں کے مطابق مناسب تربیت ملتی ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ بعض مقامات پر آج بھی متاثرہ خاتون کے کنوارہ ہونے یا نہ ہونے کو ریکارڈ کیا جاتا ہے- ایک ایسا عمل جو نہ صرف غیر متعلقہ ہے بلکہ ایک نقصان دہ سماجی سوچ کو ظاہر کرتا ہے، جس میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ غیر کنواری عورت شاید رضامند ہو ۔معاون خدمات کی صورتحال بھی خاص طور پر بڑے شہروں سے باہر کافی غیر متوازن ہے۔ انسداد ریپ تحقیقات و ترائل ایکت 2021 نے امید دلائی تھی کہ متاثرین کو قانونی مدد نفسیاتی معاونت اور اینٹی ریپ کرائسز سیلز جیسی سہولیات ایک ہی جگہ پر میسر ہوں گی، تاکہ وہ بغیر بھلکے مدد حاصل کر سکیں۔ مگر حقیقت میں یہ سہولیات اکثر دستیاب نہیں ہوتیں، اور متاثرین کو ایک مشکل اور تھکا دینے والے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔قانون یہ بھی کہتا ہے کہ مجرم متاثرین کو معاوضہ ادا کریں گے، مگر رپورٹس کے مطابق اس پر عملدرآمد کمزور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محفوظ پناہ گاہوں کی کمی متاثرین کو مزید خطرات میں ڈال دیتی ہے جہاں انہیں نہ صرف عدم تحفظ بلکہ دبا اور دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی قانون اصولی طور پر تو ازدواجی ریپ کو شادی سے باہر ہونے والے ریپ کے برابر تصور کرتا ہے۔ تاہم، عدالتیں اکثر شادی کے اندر بغیر رضامندی کے جنسی تعلق کو ریپ کے طور پر تسلیم کرنے میں ناکام رہی ہیں، یا ایسے معاملات میں کم سزائو ں والے قانونی اطلاق کو استعمال کیا گیا ہے۔ بعض اوقات عدالتیں اس شک کا اظاہر کرتی ہیں کہ اسلامی معاشرے میں ان سست (محرم) رشتوں کی جانب سے کی جانے والی جنسی جیسے واقعات ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ازدواجی زیادتی اور محرم رشتوں کی جانب سے کی جانے والی جنسی زیادتی کو واضح طور پر جرم قرار دینا ضروری ہے۔ تاکہ ایسے قبیح جرائم کی رپورٹنگ میں اضافہ ہو اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق جبکہ ملک میں صوبوں کی سطح پر بچوں کی شادی سے متعلق الگ الگ قوانین موجود ہیں، اور شادی کی عمر میں یہ فرق نہ صرف الجہن پیدا کرتا ہے بلکہ ایسے خلا کو جنم دیتا ہے جس کی وجہ سے متاثرین کے لیے انصاف حاصل کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

پنجاب، سندھ بلوچستان اور وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کی حدود میں قانون انسداد کم عمری کی شادی کے تحت لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ خیبر پختونخواہ میں یہ عمر اب بھی 16 سال ہے۔ اسی طرح کرسچن میرج ایکث 1872 بھی بعض شرائط کے ساتھ 18 سال سے کم عمر میں شادی کی اجازت دیتا ہے، جیسے والد کی رضامندی اگرچہ ملک کی کچھ عدالتیں کم عمری کی شادی کو درست طور پر لڑکیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے خلاف قرار دیتی ہیں، لیکن بعض فیصلوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلامی قانون کے تحت اگر لڑکی بلوغت کو پہنچ جائے اور رضامندی دینے کے قابل ہو جائے، تو شادی کے اندر جنسی تعلق جائز ہو سکتا ہے، چاہے وہ قانونی عمر سے کم ہی کیوں نہ ہو۔ یہ قانونی تضادات نہ صرف ابہام پیدا کرتے ہیں بلکہ بہت سی بچیوں کے تحفظ کو بھی داو پہ لگاتے ہیں۔ اگر پورے ملک میں بغیر کسی استثنا کے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کر دی جائے تو یہ خلا پر ہو سکتا ہے اور لڑکیوں کو ایک واضح مضبوط تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔پاکستان میں جنسی تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے انصاف تک رسائی اب بھی ایک طویل اور کٹھن سفر ہے، ایک ایسا سفر جو اکثر انہیں دوبارہ صدمے سے دوچار کرتا ہے، اور بہت سوں کے لیے تو انصاف کا حصول تقریبا ناممکن ہی رہتا ہے۔ اگرچہ قوانین میں اصلاحات ایک مثبت قدم ہیں، لیکن اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کا ہر سطح پر بشمول تھانوں میں، عدالتوں میں، اور ہماری کمیونٹیز میں عملی نفاذ کر کے عملی جامہ پہنایا جاے تاکہ بر متاثرہ فرد کو وہ تحفظ اور انصاف مل سکے جس کا وہ حق دار ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی