بھارت نے 2030 کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کے لئے بولی دینے کا اعلان کر دیا جسے ملک کی جانب سے 2036 اولمپکس کی میزبانی کی تیاریوں کا اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کی صدر پی ٹی اوشا نے ایک اعلی سطحی اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ہماری تیاریاں مکمل رفتار سے آگے بڑھیں گی۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کو ایک بار پھر میزبان شہر کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے، جہاں 2010 میں بھی کامن ویلتھ گیمز منعقد ہوئے تھے، تاہم وہ ایونٹ تعمیراتی تاخیر، ناقص سہولیات اور بدعنوانی کے الزامات کے باعث تنازعات کی زد میں رہا تھا۔اس کے علاوہ اوڈیشہ کے شہر بھوبنیشور اور وزیراعظم نریندر مودی کے آبائی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کو بھی ممکنہ میزبان شہروں میں شامل کیا جا رہا ہے۔احمد آباد میں واقع 130,000 نشستوں پر مشتمل کرکٹ اسٹیڈیم جو دنیا کا سب سے بڑا اسٹیڈیم ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کے نام پر ہے کو خاصی اہمیت حاصل ہے، جہاں حال ہی میں 2023 کرکٹ ورلڈ کپ کا فائنل بھی منعقد ہوا تھا۔
بھارت نے گزشتہ برس 2036 اولمپک گیمز کی میزبانی کے لیے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (IOC) کو باضابطہ خطِ ارادہ بھی جمع کروایا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نائیجیریا سمیت کم از کم تین ممالک 2030 کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔آسٹریلوی ریاست وکٹوریہ کے مالیاتی وجوہات پر دستبردار ہونے کے بعد اس ایونٹ کے لیے نیا میزبان ڈھونڈنا چیلنج بن چکا تھا۔اب گلاسگو میں ایک محدود طرز کا ایونٹ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم بھارت مکمل اسکیل کا مقابلہ منعقد کرانے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترا ہے۔انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کی منظوری کے بعد بھارت کو اگست کے آخر تک باضابطہ بولی جمع کرانی ہے جب کہ حتمی فیصلہ نومبر میں گلاسگو میں کیا جائے گا۔انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن روہت راجپال کے مطابق اگر بھارت کو میزبانی ملی تو یہ ایک مکمل اسپورٹس ایونٹ ہو گا جس میں وہ کھیل بھی شامل کیے جائیں گے جن میں بھارت میڈلز کی دوڑ میں سبقت حاصل کر سکتا ہے۔ان میں کبڈی، کھو کھو جیسے روایتی کھیل شامل ہیں جنہیں بھارت مستقبل میں اولمپکس کا حصہ بنانے کے لیے بھی کوششیں کر رہا ہے۔اولمپک تاریخ میں بھارت نے اب تک صرف 10 گولڈ میڈلز جیتے ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ممالک کے لیے ایک مایوس کن کارکردگی سمجھی جاتی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی