ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو مشرق وسطی میں جاری جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔پیر کے روز ایران کی جانب سے یہ ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بلاک شدہ بحری راستے سے جہازوں کو نکالنے کے لیے پروجیکٹ فریڈم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کا انتظام ٹرمپ کے بیانات سے نہیں چلے گا اور امریکی مداخلت کی صورت میں جنگ بندی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی نے مزید سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ امریکا دنیا کا واحد قزاق ہے جس کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز ہیں، اور ہم ان جہازوں کو غرق کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں،
لہذا امریکا اپنے جہازوں کے قبرستان کے لیے تیار رہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سمندری راستہ مزید بند رہتا ہے تو عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔سابق امریکی بحری افسر ہارلن المین نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر دنیا کی 20 فیصد توانائی کی برآمدات مزید رکی رہیں تو یہ ایک عالمی معاشی تباہی ہوگی اور امریکا میں پیٹرول کی قیمت 8 ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کی کامیابی کا انحصار صرف اس بات پر ہے کہ آیا ایران ان جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔اس دوران امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ بحری محاصرہ ایرانی حکومت کا معاشی گلا گھونٹنے کی پالیسی کا حصہ ہے تاکہ وہ اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے قابل بھی نہ رہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی