کراچی میں ضلع غربی کے علاقے اورنگی ٹائو ن میں شادی کی تقریب کے دوران ہونے والی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں میٹرک کے طالب علم سمیت دو نوجوان جان کی بازی ہار گئے۔ تفصیل کے مطابق اورنگی ٹائو ن سیکٹر بی 14، تھانہ پاکستان بازار کی حدود میں واقع جوہر چوک کے قریب شادی کی تقریب جاری تھی کہ اس دوران ہونے والی ہوائی فائرنگ دو نوجوانوں کی زندگی نگل گئی۔ریسکیو حکام کے مطابق فائرنگ سے 17 سالہ سیف اللہ ولد شمشاد موقع پر جاں بحق ہوگیا، جبکہ 15 سالہ انس شدید زخمی ہوا۔ زخمی نوجوان کو ابتدائی طبی امداد کے بعد سول اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ بھی جانبر نہ ہو سکا۔عباسی شہید اسپتال میں دونوں نوجوانوں کی لاشیں پہنچنے پر کہرام مچ گیا۔ اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور اسپتال کے سرد خانے کے باہر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔مقتول سیف اللہ کے چچا شاہین پرویز کے مطابق سیف اللہ چار بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا اور میٹرک کا طالب علم تھا۔ وہ شادی کی خوشی میں شریک ہونے گیا تھا، لیکن چند لمحوں کی ہوائی فائرنگ نے اس کی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔چھیپا حکام کے مطابق 15 سالہ انس کے سر پر گولی لگی جبکہ 17 سال کے سیف اللہ کے سینے پر گولی کا نشان ہے۔
ایس ایچ او تھانہ پاکستان بازار معراج انور کے مطابق واقعے کے فوری بعد کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ ان کے قبضے سے دو پستولیں بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف پہلوں سے تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم اعداد و شمار بھی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ کراچی پولیس کے ریکارڈ کے مطابق صرف جون کے ابتدائی 13 روز کے دوران ہوائی فائرنگ اور نامعلوم سمت سے آنے والی اندھی گولیوں کے نتیجے میں 28 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 9 واقعات صرف ویسٹ زون میں پیش آئے۔متاثرین میں خواتین، بچے، بزرگ اور مرد شامل ہیں جو اپنے گھروں، گلی محلوں یا بازاروں میں موجود تھے۔ شہر میں اسلحے کے آزادانہ استعمال، شادیوں اور دیگر تقریبات میں ہوائی فائرنگ کی مسلسل روایت اور پولیس کی مثر حکمت عملی کے فقدان نے شہریوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔تاہم شہر میں اسلحے کی نمائش اور ہوائی فائرنگ معمول بنا اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات نا کرنا پولیس اور اسلحے کا بے دریغ استعمال کرنے والے شہریوں پر سوالیہ نشان بنتے جارہے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی