i پاکستان

اے آئی سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز معاشرتی انتشار کا سبب بننے لگیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ،شواز حسین بلوچتازترین

June 10, 2026

جعلی ویڈیوز کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معروف سماجی رہنما، 4 کتابوں کے مصنف، موٹیویشن سپیکر ، معذور افراد کے ادارے مء ڈے فاونڈیشن کے چیف ایگزیکٹو جناب شواز حسین نیکہا ہے کہ حالیہ دنوں ایک جعلی اور گمراہ کن ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی جس میں ڈی پی او، اے آء جی پولیس جناب احمد محی الدین کیانتقال اور معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل کی جانب سے نماز جنازہ پڑھانے کا جھوٹا تاثر دیا گیا حالانکہ اس ویڈیو کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، الحمدللہ احمد محی الدین زندہ اور سلامت ہیں اور ان کا شواز سے مسلسل رابطہ ھیکیونکہ دونوں ماضی میں پاک نیوی میں اکٹھے رہ چکے ہیں اور کورس میٹ رھے ہیں شواز حسین نیول پائلٹ تھے اور احمد نیول کمانڈو رھے ۔ شواز حسین نے جعلسازی کیاس عمل کوانتہائی افسوسناک، غیر اخلاقی اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر معاشرے میں بے چینی، خوف اور انتشار پھیلانے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال نہ صرف عوام کو گمراہ کر رہا ہے بلکہ معزز شخصیات کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچانے کا سبب بن رہا ہے۔

قبل ازیں گاھے بگاھے جناب عطا عیسی خیلوی اور حال ھی میں معروف گلوکارہ طاہرہ سید کے انتقال کی بھی جھوٹی کیسیٹس متعدد میڈیا فورمز پر لگاء جاتی رھی ہیں --جس سے بے چینی پھیلتی ھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی ویڈیوز اور جھوٹی خبروں کی وجہ سے کسی بھی فرد کو ذہنی اذیت، سماجی مشکلات اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ایسی فیک ویڈیوز تیار کرنے، شیئر کرنے اور پھیلانے والے عناصر کا سراغ لگا کر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔شواز حسین نے حکومت بالخصوص وزارت اطلاعات سے اپیل کی کہ سائبر کرائم قوانین پر مثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ جھوٹ، فریب اور کردار کشی پر مبنی مواد کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے عناصر کے خلاف بروقت کارروائی نہ کی گئی تو معاشرے میں عدم اعتماد اور نفرت کے رجحانات مزید بڑھ سکتے ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ قانون حرکت میں آئے اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص اس قسم کی مذموم حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی