وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران ایک لاکھ ریٹیلرز کو پوائنٹ آف سیلز سسٹم میں رجسٹر کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔میڈیارپورٹ کے مطابق ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک پوائنٹ آف سیلز سے محض 37 ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوئے ہیں، پوائنٹ آف سیلز کے اہداف میں ناکامی کے بعد رجسٹریشن کا طریقہ کار بدل دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سالانہ 20 کروڑ روپے سیل کرنے والے ریٹیلرز کیلئے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کی شرط ختم کردی گئی۔فیصلے میں کہا گیا کہ سیلز ٹیکس تھرڈ شیڈول میں آئٹمز کی پرائسز تھرڈ پارٹی یا ادارہ شماریات سے کرائے جائے، اور بجٹ میں تمام کاروبار کیلئے ویلیو ایڈیشن پر آئو ٹ پٹ کا 10 فیصد ایڈوانس ٹیکس لیا جائے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق آئوٹ پٹ ٹیکس ویلیو ایڈیشن کے تحت کم سے کم ویلیو ایڈیشن پر اکٹھا ہو گا، جبکہ کیش لیکویڈیٹی بہتر ہونے سے صوبوں کو این ایف سی شیئرز ٹرانسفر میں رکاوٹ نہیں ہو گی۔فیصلہ کیا گیا کہ پورٹ پر ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے تاخیر پر جرمانہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کیا جائے، مشکوک یا نان کسٹم پیڈ گاڑی کو پولیس سے لیکر ایف بی آر کی کسٹڈی میں دے دی جائے گی، جبکہ کسٹمز کیسز میں سپشل جج کو ملزم کے کیش اکائونٹ کے اثاثے منجمد کرنے کا اختیار ہو گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی