ایف آئی اے فیصل آباد نے ملی بھگت سے غیر قانونی طور پر ٹرانسفارمرز بیچنے والے 3 ملزمان گرفتار کرلئے، ورکشاپ سے 10 ٹرانسفارمر برآمد، ملزمان اور سرکاری سہولت کاروں کے کیخلاف کارروائی شروع کردی گئی۔ حکام کے مطابق ایف آئی اے فیصل آباد زون کی ٹیم نے فیسکو میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور سرکاری ٹرانسفارمرز کی چوری کے نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں 3 ملزمان عابد رفیق اور کاشف علی اور آصف مجید کو گرفتار کرلیا۔ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل فیصل آباد کی ٹیم نے فیسکو کی ٹیکنیکل ٹیم کے ہمراہ نواب ٹاؤن، 225-RB ملکھانوالہ، فیصل آباد میں قائم ایک نجی ورکشاپ پر کامیاب چھاپہ مار کارروائی کی۔کارروائی کے دوران ورکشاپ کے مالک عابد رفیق اور ٹیکنیشنز کاشف علی اور آصف مجید کو رنگے ہاتھوں سرکاری فیسکو ٹرانسفارمرز کو غیر قانونی طور پر کھولتے، ان میں سے قیمتی تانبے کی وائنڈنگ نکالتے اور غیر مجاز مرمت کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔
چھاپے کے دوران مختلف استعداد کے 10 سرکاری فیسکو ٹرانسفارمرز، لاکھوں روپے مالیت کی تانبے کی وائر، ٹرانسفارمر آئل کے ڈرم، گیس سلنڈر، ویلڈنگ پلانٹس، گرائنڈرز اور دیگر بھاری مشینری قبضے میں لے لی گئی۔ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ فیسکو کے بعض لائن سپرنٹنڈنٹس کی ملی بھگت سے خراب یا تبدیل شدہ سرکاری ٹرانسفارمرز کو محکمانہ اسٹورز سے حاصل کرتے، ان میں سے قیمتی تانبا نکالتے اور دوبارہ غیر قانونی مرمت کر کے استعمال یا فروخت کرتے تھے۔اس منظم نیٹ ورک کی وجہ سے قومی خزانے کو سرکاری سامان کی چوری اور مصنوعی لائن لاسز کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔تحقیقات کے دوران فیسکو کے متعدد اہلکاروں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ملزمان اور ان کے سہولت کار سرکاری اہلکاروں کے خلاف دفعہ 409 تعزیراتِ پاکستان اور سیکشن 5(2) پریونشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید گرفتاریاں، تفتیش اور ریکوری کا عمل جاری ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی