پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف)کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن چیف پیاف انجینئر سہیل لاشاری ،چیئرمین سید محمود غزنوی،سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی ،وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سپیشل اکنامک زونز اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز میں اصلاحات لا کر انہیں ملکی برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے موثرمراکز میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ٹیکس مراعات کے نظام میں ضروری اصلاحات کی جا سکتی ہیں تاہم نئی سرمایہ کاری، روزگار، برآمدات اور ٹیکنالوجی منتقلی سے منسلک مراعات برقرار رکھنا صنعتی ترقی کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات میں ایسا متوازن پالیسی فریم ورک تشکیل دینا چاہیے جس سے ٹیکس بیس بھی وسیع ہو اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متاثر نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ زونز میں حقیقی ون ونڈو آپریشن، قابل اعتماد توانائی، بہتر انفراسٹرکچر، تیز رفتار کسٹمز اور آسان ریگولیٹری نظام فراہم کیا جائے تو پاکستان غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاری کو نمایاں طور پر متوجہ کر سکتا ہے۔پیاف کے رہنمائوں نے کہا کہ مراعات کو محض ٹیکس چھوٹ کے بجائے حقیقی سرمایہ کاری، برآمدی کارکردگی، روزگار اور مقامی ویلیو ایڈیشن سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش سمیت علاقائی ممالک کے اقتصادی زونز کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ موثر انتظام، سہولیات اور واضح پالیسی کے ذریعے زونز برآمدات اور روزگار میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایس ای زیڈز اور ای پی زیڈز کیلئے طویل المدتی اور مستقل پالیسی وضع کی جائے تاکہ سرمایہ کاروں کو مستقبل کے حوالے سے واضح سمت مل سکے اور پاکستان کی صنعتی و برآمدی استعداد کو مزید بڑھایا جا سکے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی