الیکشن کمیشن آف گلگت بلتستان کی جانب سے اسکردو حلقہ 2 کا حتمی نتیجہ جاری کر دیا گیا، ایم ڈبلیو ایم امیدوار کامیاب قرار پائے، فارم 49 جاری کر دیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد علی شاہ کی درخواست پر الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے حلقے میں انتخابی عمل کی تحقیقات کا حکم دیا تھا، تاہم ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کی رپورٹ میں یہ الزامات غلط ثابت ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پولنگ پرامن اور قانون کے مطابق ہوئی، کوئی پولنگ اسٹیشن قبضے میں نہیں لیا گیا، تشدد، دھمکی، رکاوٹ یا پولنگ میں خلل ڈالنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بیلٹ بکس، بیلٹ پیپرز یا انتخابی سامان چوری یا خراب نہیں کیا گیا، پولنگ عملہ یا پولنگ ایجنٹس کو کام کرنے سے نہیں روکا گیا۔
گزشتہ روز چیف الیکشن کمشنر کی منظوری سے 5 حلقوں کے مخصوص پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا حکم جاری کیا گیا۔دوبارہ پولنگ والے حلقوں میں جی بی اے 8 اسکردو 2 اور جی بی اے 13 استور 1 شامل ہیں۔ جی بی اے 15 دیامر 1، جی بی اے 16 دیامر 2 اور جی بی اے 17 دیامر 3 میں بھی دوبارہ پولنگ ہوگی۔چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے کہا کہ جی بی میں پرامن، مثالی انتخابات منعقد ہوئے، متعلقہ ڈی آر او نے ری پولنگ کی درخواست دی تھی جس پر چند پولنگ اسٹیشنز کو دوبارہ پولنگ کی ہدایت جاری کی، 15 جون کو ری پولنگ کا شیڈول دیا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی