i پاکستان

کالعدم بی ایل اے عالمی تجارت اور علاقائی رابطوں کیلئے بھی خطرہ بن گئی، ترک میڈیاتازترین

June 18, 2026

کالعدم بی ایل اے کی دہشت گردی اب صرف پاکستان نہیں، عالمی تجارت اور علاقائی رابطوں کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔یہ بات ترک میڈیا ٹی آر ٹی ورلڈ میں شائع رپورٹ میںکہی گئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی شاہراہیں اور تجارتی راہداریاں بی ایل اے کے حملوں کے باعث خطرناک زون میں تبدیل ہو رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق بی ایل اے کا اصل ہدف پاکستان کا معاشی گلا گھونٹنا اور علاقائی رابطوں کو سبوتاژ کرنا ہے، ٹرینوں، شاہراہوں اور مال بردار گاڑیوں پر حملے بلوچ عوام نہیں بلکہ روزگار اور ترقی کے خلاف جنگ ہیں۔ رپورٹ میںبتایا گیا کہ امریکا، آسٹریلیا اور برطانیہ بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے، مزید ممالک پر بھی دبا ئو بڑھ گیا ہے، بی ایل اے کا طرزِ عمل القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں سے مشابہ ہوتا جا رہا ہے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ گوادر بندرگاہ اور بلوچستان عالمی تجارت کے اہم زمینی چوک پوائنٹ ہیں، یہاں عدم استحکام کے بین الاقوامی اثرات مرتب ہوتے ہیں

بی ایل اے کے حملوں نے سڑکوں، ریلوے اور انفراسٹرکچر منصوبوں کو متاثر کر کے سرمایہ کاری کے ماحول کو نقصان پہنچایا۔ رپورٹ کے مطابق جعفر ایکسپریس حملے سمیت ریلوے نیٹ ورک پر متعدد حملوں نے بلوچستان میں ٹرین سروس بار بار معطل کروائی، گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کے مطابق گزشتہ برس پاکستان میں دہشت گردی کے تین چوتھائی واقعات بلوچستان میں رپورٹ ہوئے۔ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق سی پیک، توانائی منصوبے اور تجارتی راہداریاں بی ایل اے کے حملوں کا نشانہ بن رہی ہیں جس سے سیکورٹی اخراجات بڑھ رہے ہیں، بلوچستان میں امن و استحکام صرف پاکستان نہیں بلکہ چین، خلیجی ممالک، وسطی ایشیا اور یورپی منڈیوں کے مفاد میں ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بی ایل اے کی کارروائیاں عام بلوچ شہریوں کو نوکریوں، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی مواقع سے محروم کر رہی ہیں، بی ایل اے بلوچستان کو سرمایہ کاری، حکمرانی اور معاشی انضمام کے لیے ناقابلِ عمل بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔بلوچستان میں عدم استحکام کی قیمت پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ عالمی سپلائی چینز اور بین الاقوامی صارفین بھی ادا کر رہے ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی