ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں چار فیصد اضافے کا اعلان کر دیاگیا جبکہ پاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن نے بھی کرایوں میں دس فیصد اور پبلک ٹرانسپورٹرز نے از خود پانچ فیصد اضافہ کردیا۔پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے اپنے بیان میں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ قابلِ مذمت ہے اور اس سے براہ راست ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 4 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث ٹرانسپورٹرز گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے سپلائی چین بھی متاثر ہو رہی ہے۔ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ ٹرک اور ٹریلر مالکان کو دی جانے والی 80 ہزار روپے سبسڈی ناکافی ہے اور یہ بڑھتے ہوئے اخراجات کا ازالہ نہیں کرتی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے صورتحال بہتر نہ کی تو ٹرانسپورٹرز ملک گیر ہڑتال پر مجبور ہو جائیں گے، جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ دوسری جانب پاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن نے بھی کرایوں میں دس فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔ پبلک ٹرانسپورٹرز نے از خود کرایوں میں پانچ فیصد اضافہ کردیا، جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ اور منی مزدا کے کرایوں میں دس فیصد تک اضافہ کر دیا گیا،کرایوں میں اضافے کا اطلاق فوری کر دیا گیا۔صدرپاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن حاجی شیر علی کا کہنا ہے کہ پچھلی دفعہ بھی ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پرکرائے نہیں بڑھائے، پھر سے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے کرایوں میں اضافے پر مجبور ہیں۔محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے تاحال کرائے بڑھانے کا اعلان نہیں کیا،سیکرٹری آر ٹی اے لاہورنے کرایوں میں اضافے کے لیے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مشاورتی اجلاس طلب کیا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی